بدعنوانی مقدر نہیں!

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ حکومتی ادارے اپنے اختیارات اللہ تعالیٰ کی متعین حدود کے اندر رہ کر ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ آئین کے زیر سایہ اعلیٰ عدالتوں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون کی تشریح کریں اور انتظامیہ و مقننہ کے اقدامات کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کی روشنی میں پرکھیں۔ آئین پاکستان کے دفاع اور حفاظت کی ذمہ داری تمام حکومتی، عوامی نمائندگان اور منتخب عوامی نمائندگان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ بدعنوانی بہت بڑا خطرہ ہے جس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

          جناب چیف جسٹس صاحب نے ایک بہتر اور حقیقی معاشرے کے ان ستونوں اور ان کے درمیان ربط و تعلق کو بطریق احسن ان چند جملوں میں بیان کر دیا ہے۔ اسی سے ان کے اپنے ادارے یعنی اعلیٰ عدلیہ کی ذمہ داری، دائرۂ عمل اور عوامی توقعات پر پورا ہونے کا بھی اظہار و اطلاق ہو رہا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بدعنوانی بلاشبہ اس ربط و تعلق کو توڑنے، اسے عدمِ توازن سے دوچار کرنے اور اس کا انکار کرنے کے قولی و عملی اقدامات سے ابھرتی ہے، لیکن یہ بدعنوانی پاکستانی معاشرے یا قوم کا مقدر نہیں۔ ایک طبقہ، جس کا بہت بڑا حصہ حکمرانوں پر اور ذرائع ابلاغ کے بعض مفاد پرستوں پر مشتمل ہے، پاکستان کے عوام کو باور کرا رہا ہے کہ یہی سب کچھ تمھارا مقدر ہے، تمہیں کسی تبدیلی کی امید تو دور کی بات، اسے ذہن میں بھی نہیں لانا چاہیے۔ جو مقدر ہے اس سے نجات ممکن نہیں اور جو مقدر نہیں، اس کے لیے جدوجہد کرنا تقدیر سے جنگ کرنا ہے۔ بدعنوانی کا یہ سب سے بڑا اور سنگین وار ہے جو اذہان اور قلوب کو پراگندہ کرتا ہے، احساسِ شکست پیدا کرتا اور پھر اس احساس کو تقدیر بنا کر پیش کرتا ہے تاکہ کہیں تبدیلی لہر نہ بن جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ طبقہ اپنے اس مقصد میں بہت کامیابی سے آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا ہے۔

          اس ”بدعنوانی” کی کامیابی کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا، لیکن اس کے اثرات پورے معاشرے اور قوم کو بالکل انہی خطوط پر تبدیل کر دیں گے جن کی نشاندہی جناب چیف جسٹس نے کر دی ہے۔ اداروں کے درمیان اچھے روابط ہی ضروری نہیں ہیں، ان اداروں میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہر ادارے کو، خواہ وہ عدلیہ ہو، مقننہ ہو یا انتظامیہ ہو، ربِ ذوالجلال کے حضور جواب دہی کا ہر وقت احساس رہنا چاہیے۔ ایک عادلانہ معاشرے کی یہی سب سے مضبوط اساس ہے، لیکن جب معاشرہ اسی اساسِ عدل کو گرانے پر آمادہ ہو، جواب دہی کا احساس رب ذوالجلال کے سامنے تو دور کی بات، خود اپنے اصول و قواعد اور قانون و آئین کے سامنے بھی نہ رہے تو ظلم اور ناانصافی کا وہ معاشرہ سامنے آتا ہے جو آج کے پاکستان کا معاشرہ ہے۔ معاشرے ترقی اور خوشحالی کے بغیر چل سکتے ہیں، لوگ بھوک اور غربت میں رہ سکتے ہیں، لیکن ناانصافی اور عدل سے انحراف افراد ہوں یا معاشرہ، دونوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔

          ممکن کہ بہت سی عدالتی شرائط ہوں، تقاضے ہوں جن کی وجہ سے عدلیہ اس بدعنوانی کو اب تک صرف بے نقاب ہی کر سکی ہے، اس کا راستہ روک سکی ہے اور نہ ہی اس کا سدباب کر سکی ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پورے معاشرے کا کام ہے جس کی محض اعلیٰ عدلیہ سے سو فیصد توقع بھی ناانصافی کہی جا سکتی ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں تو اسے بھی قوم کا مقدر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ببانگ دہل کہا جا رہا ہے کہ عدلیہ کو بھی دیکھا ہے، اور بھی دیکھ لیں گے۔ گویا یہ پیغام دیا جا رہا ہے اور یہ پیغام عوام میں قبولیت پا رہا ہے کہ بدعنوانی تمھارا مقدر ہے، پیپلز پارٹی ہی تمھارا مقدر ہے، آصف علی زرداری ہی تمھارا مقدر ہے۔ جب بدعنوانی مجسم ہو جائے، ذاتیات کے قالب اسے میسر آنے لگیں اور لوگ مجبور ہو جائیں کہ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی احتیاج کے لیے بھی اس جسم اور اس قالب کے سامنے سجدہ ریز ہوں تو پھر قوت نمو کہاں رہ جائے گی۔ یہ وہ انتہا ہے جس سے قوتِ عمل سلب ہو جاتی ہے اور کردار گونگے ہو کر اپنا ہی اعتبار کھو بیٹھتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو معاشروں کی تباہی کی تفسیر بن جاتاہے۔ آنے والا مؤرخ اسی نکتے پر کتابیں لکھتا ہے، لیکن حال کا قائد راستہ نہیں پاتا کہ کس طرح سے اس اعتبار کو بچایا جائے۔

          ہم ملک کے سیاست دانوں سے بلاتمیز نظریہ و جماعت یہی گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے قبل کہ بدعنوانی تقدیر بن کے ہمارے قومی مستقبل کا دیمک بن جائے اور قوت و کردار عمل جاتے رہیں، خدارا وہ راستہ قوم کو دکھایئے جو وہ دیکھنا چاہتی ہے۔ آپ کے ایجنڈے بجا، آپ کے جھنڈے سربلند، آپ کا فرمایا ہوا بھی مستند اور آپ کا قدم بھی معتبر، لیکن کب تک؟ آپ رہنما نہ بن سکے تو سیاست دان بھی نہ بن سکیں گے۔ آج پاکستان کا ہر شہری سیاست دان کا نہیں، رہنما کا منتظر ہے۔ ایک ایسے رہنما کا وہ شدت سے منتظر ہے جس کا ایجنڈا یہ ہو کہ عام پاکستانی کو اپنے مستقبل پر اعتبار کرنے کا یقین دے سکے، حوصلہ دے سکے، جس کا جھنڈا قومی امنگوں کے خون کے دریا کے کسی پل پر نہ لہراتا ہو بلکہ وہ دل میں موجزن لہو کے طوفان ہو جانے سے سربلند ہو اور جس رہنما کا قدم مایوسی کو روندنے کی قوت رکھتا ہو، یہ سب ایسے رہنما سے ہی ممکن ہے جو راستہ بن سکے، جو راستہ دکھا سکے، جو شامت اعمال کو مقدر نہ بننے دے، جو بدعنوانی کو پوری قوم کی کہانی نہ بننے دے۔ وہی رہنما چاہیے کہ جس کے لیے کہا گیا:

نگہ بلند، جاں پُرسوز، سخن دلنواز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے